حیدرآباد 10نومبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) تہذیب و ثقافت کے اس شہر میں ایک بار پھر عر ب شیوخ کے ساتھ نابالغہ لڑکیوں سے نکاح کرانے کے قضیہ کا انکشاف ہوا۔ پولیس نے اس پر متحرک ہوتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے ۔ اس قضیہ میں دو دولہے ، دلال ، نکاح خواں قاضی سمیت اجرتی نمائندہ ( ایجنٹ ) کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے ۔ پولس نے اس مکان مالک کو بھی گرفتار کیا ہے جہاں یہ’’ عربی دولہے ‘‘ مقیم تھے ۔ واضح ہو کہ شہر میں رونما ہونے اور منکشف شدہ پہلا واقعہ نہیں ہے ؛ بلکہ اس سے قبل بھی اس ضمن کے قضیہ میں کئی ملزمان کی گرفتاری بھی ہوچکی ہے ۔ گذشتہ سال کے ماہِ ستمبر کے اواخر میں شہر میں ایک جنسی تلوث ( سیکس ریکیٹ ) بھی پکڑا گیا تھا، جس کے تحت عرب ممالک سے آنے والے عرب شیوخ کی جنسی تسکین کیلئے لڑکیاں فراہم کی جاتی تھیں ۔ عمانی شیخ سے جنسی تلوث پائے جانے پر ایک سولہ سالہ نابالغہ کی شکایت پر مرکزی وزیر منیکا گاندھی نے اس پر سنجیدہ ہوتے ہوئے کاروائی کی تو اس واقعہ کا انکشاف ہوا اور مجرمین کی گرفتاری عمل میں آئی تھی ۔